ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / پنتھرس سربراہ کا جموں وکشمیرکے گورنر سے وادی کشمیر کے بلدیاتی انتخابات منسوخ کرنے کا مطالبہ

پنتھرس سربراہ کا جموں وکشمیرکے گورنر سے وادی کشمیر کے بلدیاتی انتخابات منسوخ کرنے کا مطالبہ

Tue, 09 Oct 2018 11:10:49    S.O. News Service

جموں،9؍اکتوبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلیٰ پروفیسربھیم سنگھ نے جموں وکشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک سے برابری اور قانون کی حکمرانی کے مفاد میں وادی کشمیر میں اس وقت چل رہے میونسپل/پنچایت انتخابات کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے کیونکہ اس انتخابی عمل کی کسی مناسب اتھارٹی نے ذمہ داری نہیں اٹھائی۔پنتھرس سربراہ نے کہاکہ لداخ کے، جس میں دو اضلاع لیہ اورکارگل شامل ہیں، رائے دہندگان نے انتخابی عمل کو سمجھا اور جموں صوبہ کے 10اضلاع میں بھی انتخابی عمل کامیاب رہا کیونکہ وہاں چند پارٹیو ں کو چھوڑ کر سیاسی حصہ داری رہی۔پروفیسر بھیم سنگھ نے کہاکہ وادی کشمیر میں صورتحال مختلف ہے جہاں انتظامیہ کی کئی اسباب سے تمام اضلاع کے لوگوں تک رسائی نہیں ہے۔انتظامیہ نے خاص طورپر وادی کشمیر کی سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں سے ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں بنایا۔ دو سابق حکمراں سیاسی جماعتوں نے مختلف اور ذاتی اسباب سے انتخابات کابائیکاٹ کیا۔ انتظامیہ سابقہ حکمراں پارٹیوں کے اثر میں تھی اور اس نے جلتی ہوئی وادی کشمیر میں انتخابی عمل شروع کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔انہوں نے کہا کہ کشمیر میں 598وارڈ ہیں جن میں سری نگر میونسپل کارپوریشن اور میونسپلٹی وارڈ شامل ہیں۔حیرت کی بات ہے کہ 178وارڈوں میں کوئی امیدوار ہی نہیں تھاجبکہ 236پر صرف ایک ہی پارٹی کے امیدوار تھے ۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وادی کے 598 وارڈوں میں سے صرف 178وارڈوں پر الیکشن ہوا۔یہ وادی کشمیر میں انتخابی عمل کے ساتھ مذاق ہے اور کون اس پر بھروسہ کرے گا۔انہوں نے کہاکہ لداخ او ر جموں سے کشمیر کے رائے دہندگان کو ایک پیغام گیا ہے اور وہ پنچایت انتخابات میں حصہ لینے کی تیاری کررہے ہیں کیونکہ یہ انتخابات پارٹی کی بنیاد پر نہیں ہوتے۔انہوں نے کہاکہ گورنر کو اس بات کا اختیار حاصل ہے کہ وادی کشمیرکے بلدیاتی انتخابات منسوخ کرسکیں اور پورے جموں وکشمیر میں پنچایت انتخابات کے لیے تاریخ مقررکریں۔انہوں نے کہاکہ وادی کشمیر کے لوگ1951سے اسی طرح کی پریشانیوں کے شکار ہیں۔ گورنر کو کشمیر کی ناراض قیادت سے بات چیت کے لئے تجربہ کاربزرگ لوگوں کی چھوٹی کمیٹی تشکیل دینی چاہیے۔


Share: